سب سے افضل ذکر
لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ
La ilaha illallah
Sab sy Afzal Zikar in Quran
:قرآن سے
Surah Muhammad (47:19)
فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ
پس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
یہ آیت اس ذکر کی عظمت بیان کرتی ہے، کہ “لا الہ الا اللہ” کا علم اور اقرار ایمان کی بنیاد ہے۔
Sab sy Afzal Zikar in Hadees
:حدیث
عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ الْحَمْدُ لِلَّهِ
:اردو ترجمہ
:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
“سب سے افضل ذکر ‘لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ’ ہے، اور سب سے افضل دعا ‘الحمدُ لله’ ہے۔”
صحیح ترمذی: حدیث نمبر 3383
Sab sy Afzal Zikar in Urdu
أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
سب سے افضل ذکر “لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ” ہے۔
Reference:
Jami’ at-Tirmidhi, Book 48, Hadith 3383 | صحیح
Sab sy Afzal Zikar value
:فضائل “لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللّٰهُ” کے بارے میں
جو شخص اخلاص سے یہ کلمہ کہے، اس کے سارے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔
یہ کلمہ جنت کی کنجی ہے۔
موت کے وقت یہ کلمہ زبان پر ہو تو بخشش کی بشارت ہے۔
:اس ذکر کی فضیلت
“لا الہ الا اللہ” سب سے اعلیٰ اور افضل ذکر ہے، کیونکہ یہی جملہ توحید کی بنیاد ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اسے سب سے افضل ذکر فرمایا ہے۔ اس ذکر سے دل کو سکون ملتا ہے، شیطان دور بھاگتا ہے، اور انسان کے گناہ مٹائے جاتے ہیں۔ یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان ہے۔ اگر کوئی شخص اس کو دل سے مانے اور زبان سے کہے تو وہ مسلمان کہلاتا ہے۔ موت کے وقت اگر یہ کلمہ زبان پر ہو، تو جنت کی خوشخبری ہے۔
The Value of This Dhikr in English (Paragraph):
The phrase “La ilaha illallah” (There is no god but Allah) is the most superior form of remembrance (dhikr) in Islam. According to authentic Hadith, the Prophet Muhammad ﷺ declared it the best dhikr. It affirms the oneness of Allah and is the foundation of Islamic belief. Saying this dhikr purifies the heart, earns immense reward, and is a means of salvation. At the time of death, if one’s last words are “La ilaha illallah,” they are promised Paradise. It is a short but powerful declaration that connects the believer directly to their Creator.

