
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کھانے پر شکر کرنے والا درجہ میں صبر کرنے والے روزہ دار کے برابر ہے
یہ حدیث کا مفہوم بہت گہرا اور خوبصورت ہے، آئیے اسے آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں:
حدیث:
“حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“کھانے پر شکر کرنے والا، درجہ میں اُس صابر روزہ دار کے برابر ہے جو بھوکا رہتا ہے۔”
(ترمذی)
وضاحت:
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ ہمیں ایک اہم نکتہ سمجھا رہے ہیں:
اللہ کا شکر ادا کرنا، خاص طور پر کھانے پر، اتنا بڑا عمل ہے کہ اُس کا ثواب اُس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو بھوک برداشت کرکے روزہ رکھتا ہے۔
-
روزہ دار: وہ شخص جو اللہ کی رضا کے لیے بھوکا پیاسا رہتا ہے اور صبر کرتا ہے۔
-
شکر گزار: وہ شخص جو کھانے جیسی نعمت ملنے پر اللہ کا دل سے شکر ادا کرتا ہے، یعنی سمجھتا ہے کہ یہ نعمت اللہ کی طرف سے ہے اور وہ اس پر عاجزی سے شکر کرتا ہے۔
اصل پیغام کیا ہے؟
-
دینِ اسلام میں صبر اور شکر دونوں کو بہت بلند مقام حاصل ہے۔
-
اگر کوئی شخص روزہ رکھ کر صبر کرتا ہے تو وہ عبادت گزار کہلاتا ہے،
لیکن اگر کوئی نعمت پا کر شکر کرتا ہے تو وہ بھی اسی درجہ کا عبادت گزار بن جاتا ہے۔ -
اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف مصیبت میں صبر کرنا ہی عبادت نہیں،
نعمتوں پر شکر کرنا بھی اتنا ہی افضل عمل ہے۔
سبق:
-
ہمیں اللہ تعالیٰ کی ہر چھوٹی بڑی نعمت پر دل سے شکر کرنا چاہیے،
چاہے وہ کھانا ہو، پانی ہو، صحت ہو یا سکون۔ -
جب آپ کھانا کھائیں، تو صرف “الحمدللہ” کہنا کافی نہیں — بلکہ دل سے محسوس کریں کہ یہ اللہ کی عطا ہے۔
-
اس طرح آپ کو روزہ دار کے اجر جیسا ثواب مل سکتا ہے۔
✦ اہم نکات:
-
شکر اور صبر دونوں عظیم عبادات ہیں۔
شکر گزار کو وہی درجہ ملتا ہے جو صابر روزہ دار کو ملتا ہے۔ -
شکر کرنا اللہ کی نعمتوں کا اعتراف ہے۔
خاص طور پر کھانے کے بعد شکر ادا کرنا بہت فضیلت والا عمل ہے۔ -
اسلام میں صرف مصیبت پر صبر ہی نہیں بلکہ نعمت پر شکر بھی عبادت ہے۔
-
روزہ دار بھوکا رہ کر اللہ کی رضا حاصل کرتا ہے،
اور شکر گزار کھا کر اللہ کی رضا حاصل کرتا ہے۔ -
شکر دل، زبان، اور عمل سے ہونا چاہیے۔
صرف “الحمدللہ” کہنا کافی نہیں، بلکہ دل سے اللہ کی نعمتوں کو ماننا ضروری ہے۔ -
ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا مومن کی پہچان ہے۔