اسلامی معاشروں میں سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلتی فحاشی، والدین کی لاپروائی، اور نماز و قرآن کی تربیت کی کمی پر ایک سچائی پر مبنی تحریر۔
مکمل تحریر:
آج کے دور میں اسلامی دنیا، خصوصاً پاکستان جیسے ممالک میں سوشل میڈیا پر جو مناظر سامنے آ رہے ہیں، وہ نہایت تشویشناک ہیں۔ کم عمر بچیاں بغیر کسی نگرانی کے اکیلے ویڈیوز بنا رہی ہیں۔ بعض شادی شدہ جوڑے بھی ایسی ویڈیوز اپلوڈ کر رہے ہیں جنہیں اسلامی اخلاقیات کے مطابق کسی طور درست نہیں کہا جا سکتا۔ یہاں تک کہ کچھ افراد بچوں کے ساتھ بھی غیر مناسب مواد بنا رہے ہیں، جو کہ نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ غیر انسانی بھی ہے۔
اہم نکات:
-
سوشل میڈیا پر کم عمر بچیوں کی ویڈیوز کا آزادانہ پھیلاؤ
-
میاں بیوی کی نجی زندگی کو عوامی بنانے کا رجحان
-
بچوں کے ساتھ ویڈیوز بنا کر وائرل کرنا
-
والدین کی لاپروائی اور غیر ذمہ داری
-
دینی تربیت کی شدید کمی
والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کی نگرانی کریں، انہیں سمجھائیں کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال کس حد تک اور کس مقصد کے لیے کریں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے والدین اپنے بچوں کو نہ نماز سکھاتے ہیں، نہ قرآن کی تعلیم دیتے ہیں، اور نہ ہی انہیں اسلامی اخلاقیات سے روشناس کراتے ہیں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں فحاشی اور بے راہ روی سے بچیں تو ہمیں گھروں سے ہی اصلاح کا عمل شروع کرنا ہوگا۔
-
نماز کی عادت ڈالیں
-
قرآن کی تعلیم دیں
-
اور سوشل میڈیا کے استعمال پر کڑی نگرانی رکھیں
اسلامی دنیا کو اب جاگنا ہوگا۔ اگر آج ہم نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
والدین کی ذمہ داریاں
اسلامی معاشرے میں والدین کی ذمہ داریاں وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہیں، خاص طور پر جب فحاشی اور بے حیائی عام ہو رہی ہو۔ یہ تحریر ایک رہنمائی ہے اُن والدین کے لیے جو اپنے بچوں کو اسلامی اقدار کے ساتھ پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔
والدین کی ذمہ داریاں – ایک اسلامی نقطہ نظر
اسلامی تعلیمات میں والدین کو معاشرے کے سب سے اہم معمار مانا گیا ہے۔ والدین صرف بچوں کو دنیا میں لانے والے نہیں بلکہ اُن کی شخصیت، اخلاق، کردار، اور دینی تربیت کے ضامن بھی ہوتے ہیں۔ موجودہ دور میں جب فحاشی، بے حیائی، اور میڈیا کے منفی اثرات ہر طرف پھیل رہے ہیں، والدین کی ذمہ داریاں دوگنی ہو چکی ہیں۔
اہم نکات:

-
اسلامی تربیت دینا:
بچوں کو قرآن، حدیث اور سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں تربیت دینا والدین کی اولین ذمہ داری ہے۔ تربیت کا آغاز والدین کے اپنے عمل سے ہوتا ہے۔ -
وقت دینا اور سننا:
بچوں کے ساتھ وقت گزارنا، ان کے مسائل سننا اور سمجھنا نہایت ضروری ہے تاکہ وہ گھر کے ماحول میں اعتماد محسوس کریں۔ -
حدود و قیود سکھانا:
بچوں کو یہ سکھانا کہ کیا جائز ہے اور کیا ناجائز، کس چیز کی اجازت ہے اور کس چیز سے رکنا ہے، اسلامی معاشرت کا بنیادی اصول ہے۔ -
فحاشی سے بچاؤ:
میڈیا، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بڑھتی ہوئی بے حیائی سے بچوں کو محفوظ رکھنا والدین کی شرعی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ بچوں کے موبائل، انٹرنیٹ اور دوستوں پر نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ -
اچھے دوست اور ماحول مہیا کرنا:
بچوں کو ایسے اداروں اور ماحول میں رکھنا جو دینی اور اخلاقی اقدار کو فروغ دیتے ہوں، والدین کی دور اندیشی کو ظاہر کرتا ہے۔
والدین کا نمونہ بننا ضروری ہے
بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں۔ اگر والدین خود نماز کے پابند ہوں، سچ بولتے ہوں، اخلاق سے پیش آتے ہوں اور دینی امور کو ترجیح دیتے ہوں تو بچے بھی اسی راہ پر چلیں گے۔ خالی نصیحتیں اثر نہیں کرتیں، عمل خود ایک خاموش دعوت ہے۔
نوجوانوں کو وقت پر شعور دینا

اسلامی دنیا میں فحاشی کا پھیلاؤ اسی وقت روکا جا سکتا ہے جب والدین ابتدا سے بچوں کو صحیح اور غلط میں تمیز سکھائیں۔ نوجوانی کی عمر میں جذبات اور خواہشات کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے، اس وقت والدین کی رہنمائی اور دوستی کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
ماں کا کردار سب سے اہم
ایک ماں بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ اگر ماں خود حیا دار، نمازی، بااخلاق اور دین دار ہو، تو بچہ بھی اُسی سانچے میں ڈھلتا ہے۔ گھر میں دینی ماحول قائم کرنا ماں کے کردار سے جڑا ہے۔
باپ کی موجودگی اور رہنمائی
باپ نہ صرف مالی ذمہ داریاں ادا کرتا ہے بلکہ بچوں کی شخصیت میں استحکام اور قوت بھی باپ کے عمل سے آتی ہے۔ باپ کی شفقت، وقت اور نصیحت بچے کے لیے ڈھال بن سکتی ہے۔
Short Points
-
اسلامی تربیت
-
والدین کی ذمہ داریاں
-
بچوں کا سوشل میڈیا استعمال
-
پاکستان میں بڑھتی فحاشی
-
قرآن و نماز کی اہمیت