Quran Sunne ki Adab aur Zikr-e-Ilahi ke Fawaid Quran ki Roo Sa

ترجمہ
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
اور اپنے رب کو اپنے دل میں گڑگڑاتے اور ڈرتے ہوئے یاد کرو اور اونچی آواز کے بغیر صبح اور شام اور غافلوں میں سے نہ ہو جانا۔
بے شک جو لوگ تمہارے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اسی کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔
تشریح
-
جب قرآن مجید کی تلاوت ہو رہی ہو تو نہ صرف زبان کو بلکہ دل و دماغ کو بھی متوجہ رکھنا چاہیے۔
-
ذکرِ الٰہی دل کی حاضری اور خشوع و خضوع کے ساتھ ہونا چاہیے۔
-
مومن ہمیشہ اللہ کی بندگی میں عاجزی اختیار کرتا ہے اور تکبر سے دور رہتا ہے۔
فوائد
-
قرآن سنتے وقت مکمل توجہ اور سکوت رحمتِ الٰہی کا سبب بنتا ہے۔
-
ذکر اللہ کا دل میں خشوع اور عاجزی پیدا کرتا ہے۔
-
بندگی میں تکبر کی گنجائش نہیں، عاجزی مومن کی پہچان ہے۔
-
صبح و شام ذکر کرنے والے غفلت سے محفوظ رہتے ہیں۔
Momino ki Pehchan aur Unke Sifat Quran ki roo sa

ترجمہ
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور آپس کے تعلقات درست کرو، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو۔
مومن تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل کانپ اٹھیں، اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو ان کا ایمان بڑھ جائے، اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔
جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
یہی لوگ سچے مومن ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس درجے ہیں، اور مغفرت ہے، اور عزت والی روزی ہے۔
تشریح
-
ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ بندہ اللہ سے ڈرے اور مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔
-
مومن کی خاص پہچان یہ ہے کہ ذکرِ الٰہی سے دل نرم اور لرزاں ہو جاتا ہے۔
-
ایمان میں اضافہ قرآن کی تلاوت اور آیات پر غور کرنے سے ہوتا ہے۔
-
نماز اور انفاق مومن کے ایمان کو عملی صورت دیتے ہیں۔
فوائد
-
اللہ کا ڈر انسان کو گناہوں سے روکتا ہے۔
-
تعلقات کی اصلاح سے معاشرہ پرامن بنتا ہے۔
-
ذکر اللہ ایمان کو تازگی دیتا ہے۔
-
نماز اور انفاق مومن کی عملی زندگی کی بنیاد ہیں۔
-
سچے مومن کو دنیا و آخرت میں بلند مقام، مغفرت اور عزت والی روزی ملتی ہے۔