
سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات
آیت 285
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ ۚ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ
:ترجمہ (اردو)
“رسول (ﷺ) اس چیز پر ایمان لائے جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل کی گئی، اور مومن بھی ایمان لائے۔ سب ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اور اس کے رسولوں پر۔ (وہ کہتے ہیں:) ہم اس کے کسی رسول کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اور انہوں نے کہا: ہم نے سنا اور اطاعت کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش کے طلبگار ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔”
آیت 286
لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
:ترجمہ (اردو)
“اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ جو اچھائی وہ کرے گی وہ اسی کے لیے ہے، اور جو برائی وہ کرے گی وہ اسی کے خلاف ہے۔ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کریں تو ہمیں نہ پکڑ۔ اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تُو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کو اٹھانے کی ہم میں طاقت نہ ہو، اور ہمیں معاف فرما، ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا کارساز ہے، لہٰذا کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔”
احادیث کی روشنی میں
حدیث 1: اللہ نے خود یہ آیات نازل فرمائیں
:حدیث
:حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
“جس شخص نے سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات رات کو پڑھ لیں، وہ اسے کافی ہوں گی۔”
صحیح بخاری – حدیث نمبر: 5009
صحیح مسلم – حدیث نمبر: 807
:(اردو ترجمہ)
“جو شخص سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات رات کو پڑھے گا، یہ آیات اس کے لیے کافی ہوں گی۔”
یعنی یہ آیات انسان کو ہر شر، نقصان، پریشانی اور شیطان سے حفاظت فراہم کرتی ہیں۔
:حدیث 2: اللہ نے آسمان کے خزانے سے نازل کیں
:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا
“جب نبی ﷺ معراج پر گئے، تو آپ کو آسمان کے نیچے سے ایک خزانہ دیا گیا جس میں سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات شامل تھیں۔ ان جیسی آیات کسی اور نبی کو نہیں دی گئیں۔”
مسند احمد – حدیث نمبر: 25260
صحیح مسلم (کتاب الایمان)
:(اردو ترجمہ)
اللہ تعالیٰ نے یہ آیات خاص اپنے خزانۂ رحمت سے عطا کیں اور انہیں امتِ محمد ﷺ کے لیے تحفہ بنایا۔
:تفسیر کی روشنی میں اہم نکات
ان آیات میں ایمان کے ارکان (اللہ، فرشتے، کتابیں، رسول) کا خلاصہ ہے۔
مؤمن کی فرمانبرداری (“سمعنا و اطعنا”) کا جذبہ ہے۔
اللہ کی رحمت اور عدل کا بیان ہے: “لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا”
یہ آیات دعا پر مشتمل ہیں، جو مؤمن کے عجز اور اللہ کی مدد طلب کرنے کی بہترین مثال ہیں۔
:اِن آیات کی فضیلت اور اہمیت
سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے امت محمدیہ ﷺ کے لیے خاص انعام ہیں۔ یہ آیات ایمان، اطاعت، اللہ کی مغفرت، مدد، آسانی، دعا، اور رحمت کا جامع مجموعہ ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی انسان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا، اور مومن کو بھول چوک اور خطا پر معافی مانگنے کی تلقین دی گئی ہے۔ ان آیات کو رات سونے سے پہلے پڑھنے والا شخص شیطان کے شر سے محفوظ رہتا ہے، اور اللہ کی حفاظت میں آ جاتا ہے۔ یہ آیات ہر پریشان حال، گناہ گار اور ہدایت کے طالب کے لیے شفا اور روشنی کا ذریعہ ہیں۔
Value and Importance
The last two verses of Surah Al-Baqarah (285–286) are among the most powerful verses in the Qur’an. They were gifted directly from Allah to the Prophet Muhammad ﷺ during the miraculous journey of Mi’raj. These verses encapsulate the essence of Islamic faith, obedience, and divine mercy. They affirm belief in all prophets, highlight the fairness of Allah’s judgment, and contain heartfelt supplications asking for forgiveness, ease, and victory. The Prophet ﷺ strongly encouraged reciting them at night, stating that they will suffice the believer, meaning they protect, bless, and fulfill one’s spiritual needs. Their regular recitation brings divine protection from harm, especially during sleep, and connects the believer directly to Allah’s mercy and guidance.
